خرید بک لینک
سوال: کیا اصلی مقتل ابی مخنف مفقود ہو گئی ہے ؟ اور اب جو ہمارے پاس مقتل حسین ابو مخنف سے ایک کتاب منسوب کی جاتی ہے وہ اصلی نہیں..؟

جواب : جی ہاں محدث نوری علیہ رحمہ لولو مرجان کے صفحہ نمبر ۱۵۰ پر لکھتے ہیں
افسوس ہے کہ اصل متقل جو بے عیب اور درست تھی وہ آج دسترس میں نہیں ہے اور موجودہ مقتل کو جسے اس مقتل سے نسبت دی جاتی ہے وہ کچھ ایسے غلط و شیعہ اصول کے منافی مطالب پر مشتمل ہے جنہیں دانا دشمن اور نادان دوستوں نے اپنے مضموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے اس میں ڈال دیا ہے. اس لیئے یہ (جدید مقتل) اعتماد و اعتبار کھو بیٹھا ہے اور اس کے منفردات پر ذرا بھی اطمنان و اعتبار نہیں کیا جاسکتا(۱)

صاحب نفس المھموم مقدمے میں لکھتے ہیں
ابو مخنف لوط بن یحیی بن سعید ازدی غامدی شیخ و موجہ محدثان کوفہ میں سے تھے اور اس کی روایت مورد اطمینان ہے ......
آخر میں مقتل ابو مخنف کے بارے میں لکھتے ہیں:
طبری سے رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طبری نے جو متقل حسین کے بارے میں لکھا اس کا بہت بڑا حصہ بلکہ سارا کچھ مقتل ابو مخنف سے لیا ہے. اور ہم جب طبری کے منقولات اور اس مقتل، جو ابو مخنف سے منسوب کیا جاتا ہے، کے منقولات کو غور سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقتل اصل مقتل (ابو مخنف) نہیں ہے اور کسی اور مورخ قابل اعتماد کی لکھی ہوئی بھی نہیں ہے. (۲)


(۱) در کربلا چہ گذشت، (ترجمہ نفس المہموم، ص ۲۹ مقدمہ مولف

(۲) لولو مرجان، محدث نوری ص ۱۵۰

برچسب: مقتل حسين ابو دومه,مقتل حسين ابو دومة,مقتل حسين ابو قوطة بسوهاج,مقتل حسين ابو دومة بسوهاج,مقتل حسين ابو قوطة,مقتل حسين ابو قوطه سوهاج,مقتل حسين ابو عمشه,مقتل حسين ابو معمر,مقتل حسين ابو عصب,مقتل الحسین ابومخنف, نویسنده: هلیا رضایی تاريخ: شنبه 24 مهر 1395 ساعت: 22:41

صفحه بندی