
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*مجھ کو استاد کہتے ہیں اھل نظر*
(شھیداستاد )
تحریر: محمد زکی حیدری
"کیا استاد استاد لگا رکھا ہے استاد کہتے کسے ہیں کچھ پتہ بھی ہے، بس جو آئے اسے استاد کہہ دیا، تم لوگ..." میں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا "بس کردو..." جب وہ چپ ہوا تو میں نے کہا 18مارچ شہید استاد سبط جعفر (رح) کی برسی ہے اس مناسبت سے میں تحریر لکھوں گا اور آپ کو بتاؤنگا کہ استاد کہتے کس کو ہیں.
استاد کیا ہوتا ہے؟ کاش انہیں علم ہوتا!!!
مسلمان جس کا نبی محمد (ص) جیسا ہو. اگر استاد کی تعریف نہ سمجھے تو حیف ہے، بقول مرحوم جوش ملیح آبادی (رح) کہ "عرب کی سی جہالت کی نگری میں جو کسی ایک متنفس کی شاگردی لیئے بغیر بھی پوری کائنات کا استاد کہلائے دبستان ادب کی زبان میں ایسے شخص کو محمد (ص) کہتے ہیں"
محمد (ص) نے ہمیں سکھایا کہ استاد اسے کہتے ہیں جو اپنی معنوی تعلیمات میں زمان و مکان کی قید سے مبرا ہو، استاد وہ ہے جس کی کلاس روم چار دیواری نہیں بلکہ معاشرہ ہو، معاشرے کے عام افراد اس کے شاگرد ہوں، اس کی ھر حرکت و سکون میں معنوی و عملی دروس ہوں۔ استاد کتاب نہیں لکھتا افراد کی زندگی لکھتا ہے، استاد افراد و اقوام کی تقدیریں بدلتا ہے. اگر ہم شیعان حیدر کرار اپنے آئمہ (ع) کہ زندگی کا غور سے جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس نظر آتی ہے کہ ان کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی اور وہ شیعوں کیلئے نمونہ عمل تھے یعنی نہ فقط استاد بلکہ عملی نمونہ، آئیڈیل و رول ماڈل بھی تھے۔ اسی طرح ہم ان آئمہ (ع) کے وارثین علماء کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی نہ صرف نظریاتی استاد تھے بلکہ عملی استاد تھے۔ استاد وہ ہی ہوتا ہے جو ھر آن و ھمہ وقت استاد ہو نہ فقط کلاس کے اندر!
میں جب، بغیر مبالغے کے، استاد شہید سبط جعفر (رح) کی زندگی کو آئمہ (ع) کے دیئے نمونہ عمل پر رکھ کر پرکھتا ہوں تو مجھے شہید استاد انہی استادوں کی سیرت پر چلتے نظر آتے ہیں۔ ولایت سے عشق کی بات آئے تو شہید استاد سبط جعفر (رح) جب بھی پڑھتے محفل کو ولایت کے پھولوں سے سجا کر رکھ دیتے، تقویٰ کی بات کریں تو استاد شہید کا چہرا مبارک دیکھ لیں، معنویت کے رنگ سے عیاں ہے کہ نماز شب پڑھا کرتے تھے، آئمہ (ع) روٹیوں کی بوریاں لے لے جاکر غریبوں کو کھلاتے تو استاد نے بھی اسی نمونہ عمل کا اتباع کرتے ہوئے کراچی و مضافات کے بہت سے یتیم و مساکین کے سر پہ شفقت کا ہاتھ رکھا. استاد نہ فقط رحمدل بلکہ ایک انتہائی خوش طبع انسان تھے، یاور زیدی بھائی نے حقیر کو بتایا کہ استاد عید پرعیدی کے لفافے بناتےاور ھرایک کے ہاں خود چل کر دینے جایا کرتے۔ کیا اس فعل کے تانے بانے کسی امام معصوم سے نہیں ملتے؟ اور خوش طبع ہونے کی بات آتی ہے تو یاور بھائی ہی نے بتایا کہ یہ جو عیدی کے لفافے بنتے تھے ان پہ استاد فقط وصول کنندہ کا نام نہیں بلکہ ھر شخص کا ایک خاص مزاحیہ لقب بھی لکھا کرتے، بقول یاور زیدی بھائی کہ میں چونکہ غسل و تدفین و
تلقین کے امور میں مصروف رہا کرتا تو میرے لفافے پہ لکھا ہوتا "یاور عباس زیدی غسال العلماء آیت اللہ تلقینی!"
قناعت کی بات آئے تو شہید استاد نے اتنے بڑے افسر ہونے کے باوجود پروٹوکول تو کنار گاڈی تک رکھنا پسند نہ کی ایک خستہ حال موٹرسائیکل لے کر پورے کراچی کی محافل میں شرکت کیا کرتے۔ انقلاب کی بات ہو تو آپ امام خمینی (رض) کی برسی پہ اپنے مخصوص کلام کے ساتھ ظاہر ہوکر انقلاب سے محبت کا ثبوت دیتے نظر آتے، اجر رسالت میں محبت اھلبیت مانگنے والے محمد (ص) کے اس فرزند سید سبط جعفر زیدی پر زیادہ نیاز لینے کا الزام بھلا کوئی کیسے لگا سکتا ہے کہ جب حلقۂ احباب میں مشہور ہو کہ سبط جعفر
یعنی بغیر لفافے کے بڑا شاعر بننے والا!
متقی، عاشق ولایت، انقلابی، محب مساکین، یاور یتیمان، خوش طبع، قناعت پسند، طمع سے پاک... علی (ع) کے قول کہ جیو ایسے کہ جب تک زندہ رہو لوگ تم سے ملنے کے مشتاق رہیں اور جب مرو توتم پر گریہ کریں، کا بے نظیر نمونہ....
کیا لکھ کر کیا لکھوں اب تو کمبخت آنکھیں بھی استاد کے یاد کی تاب نہ لاسکیں، گستاخ آنسو بھر آئے آنکھ میں!!!
بس اتنا سا سوال ہے کہ جناب کون سا ایسا پہلو رہ گیا زندگی کا کہ جس کے بارے میں استاد شہید کی زندگی سے ہمیں علمی و عملی دروس نہ ملتے ہوں؟ اگر ان کی زندگی کے ھر پہلو سے اطاعت اساتیذ معصوم یعنی آئمہ (ع) کی خوشبو آتی ہے تو پھر میں یہ کیوں کہوں کہ شہید استاد سبط جعفر صرف سوزخوانوں کے استاد تھے، نہیں! استاد سبط جعفر ھر انسان کے استاد تھے.