خرید بک لینک

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قاری بشیر اور کامریڈ سرمد

از قلم: محمد زکی حیدری

ایک ہی گھر میں ایک ڈاکیے کے دو بیٹے رہا کرتے تھے، ان کے والد نے دونوں کو مدرسے میں داخلہ دلوایا کہ یونیورسٹی فیس بھرنا اس کے بس میں نہ تھی۔ اس نے سوچا دین پڑھ لیں گے تو اس کی آخرت بھی سنور جائے گی۔ لیکن اس کے خوابوں کے برعکس بڑا بیٹا آزاد خیال بن گیا، اسلامی احکامات کو پاوں کی زنجیر و آزادی انسانیت کے منافی سمجھتا تھا سو وہ لبرل سے ہوتے ہوتے سوشلسٹ و سوشلسٹ سے باقائدہ پکا کمیونسٹ بن گیا اور لوگوں نے اسے کمیونزم کے جیالوں کا لقب "کامریڈ" عطا کیا، والدین کا دیا ہوا نام اکرم تبدیل کر کے خود کو سرمد کہلانے لگا۔ اور بن گیا کامریڈ سرمد!
لیکن چھوٹا بھائی قاری بشیر مدرسے میں پڑھتا رہا اور قاری بن گیا اب وہ محلے کی مسجد میں بچے و بچیوں کو قرآن پڑھانے لگا۔

ایک مرتبہ کامریڈ سرمد نے مشاھدہ کیا کہ اس کا چھوٹا بھائی قاری بشیر جو تقریبا اپنا آدھا دن مسجد میں گذارا کرتا، نے مسجد میں جانا بہت کم کردیا ہے اور داڑھی بھی بہت چھوٹی کروا دی، رات کو آدھی آدھی رات تک موبائل پہ باتیں کرتا رہتا ہے، صبح بھی بڑی دیر سے اٹھتا ہے۔
کامریڈ سرمد نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے بات گھما دی۔ لیکن کامریڈ کا تجسس بڑھا سو اس نے قاری سے ضد کی کہ بتاو کہ ایسا کیا ہوا کہ تم تبدیل ہوگئے؟
قاری ھنس کر بولا کامریڈ تم سچ کہتے تھے اللہ وللہ نامی کوئی چیز نہیں ہے! بس سب ہماری سوچ کا نتیجہ ہے یہ اللہ وغیرہ!
کامریڈ نے حیرت سے اسے دیکھا، اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے پوچھا : ابے یہ کیا کہہ رہا ہے بشیر!
بشیر: ہاں یار سچ کہہ رہا ہوں، سب باتیں ہیں اللہ و الللہ کچھ نہیں، تم جن فلاسفرز کہ بات کرتے ہو وہ سچ کہتے ہیں اللہ وجود نہیں رکھتا!
کامریڈ: ابے گھامڑ اب بتا بھی دو کہ ہوا کیا ہے اور یہ سب کس نے تمہیں بتایا؟ کس نے تجھے تبدیل کیا کہ تو اب مسجد جاتا ہی نہیں۔
بشیر: ھنستے ہوئے بھئی اب تم سے کیا چھپانا، بات یہ ہے کہ میں بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا ایک بچہ مجھے بڑا پسند تھا، میں نے بڑی ہی کوشش کی کہ کسی بھی طریقے سے اسے کہیں اور لے جاوں اور اپنی خواہش پوری کروں لیکن میں ناکام رہا۔ ایک دن اسے سبق یاد نہ تھا میں نے سزا کے طور پر اسے مسجد میں بٹھا دیا باقی سارے بچوں کو بھیج دیا اور پھر میں نے وہ کیا جس سے اب تک میں ڈرتا رہا۔ مجھے بڑی لذت حاصل ہوئی۔ میں گھر آیا شروع میں تھوڑا سا پریشان ضرور تھا کہ مسجد میں یہ کام کیا۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں نے اتنا بڑا گناہ کیا، کوئی بھی دیکھ لیتا تو مجھے سزا دیتا، لیکن میرے عقیدے کے مطابق اللہ (ج) دیکھ رہا تھا اس نے مجھے کچھ نہ کیا۔ سو تب سے مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ ہے ہی نہیں۔ ہوتا تو مجھے ضرور سزادیتا۔

جب اس نے بات پوری کر کے کامریڈ کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ کامریڈ کے اشک اس کے رخسار سے جاری تھے۔
جب قاری نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا: ارے بدبخت اللہ (ج) ہے! اس نے تجھے اس جرم کی یہ سزا دی کہ تجھے خود سے دور کردیا اور اپنے گھر یعنی مسجد سے نکال دیا، اس سے بڑی سزا تجھے کیا دے اللہ!!!
یہ کہہ کر کمیونسٹ نے اپنے بدبخت بھائی کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ چل وہ غفور ہے ایک بار رو کر معافی مانگتے ہیں سارے گناہ بخش دے گا۔ دونوں نم آنکھوں کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔


(

برچسب: نویسنده: هلیا رضایی تاريخ: چهارشنبه 27 مرداد 1400 ساعت: 8:43

صفحه بندی